حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی زندگی: خلیفہ دوم کی سوانح اور فتوحات
اگر دریائے فرات کے کنارے ایک کتا بھی پیاسا مر جائے تو عمر ذمہ دار ہوگا۔
یہ وہ الفاظ ہیں جن سے آج پورا عالم اسلام واقف ہے کہ یہ کس مقدس ہستی نے اپنے دور خلافت میں کہا تھا۔ آپ سمجھ گئے ہوں گے میں کن کی بات کر رہا ہوں۔ جی ۔ میں اس انسان کی بات کر رہا ہوں جو :
- راتوں کو بھیس بدل کر عوام کے حالات دیکھنے اکیلا گلیوں میں نکل جایا کرتا تھا
- آدھی دنیا پر حکمران ہونے کے باوجود اپنے لیے کبھی تخت کو پسند نہیں کیا
- جس کو دیکھ شیطان اپنا راستہ بدل دیتا تھا
- جس کے بنائے گئے قوانین آج بھی دنیا اپنائے ہوئے ہے
آج ہم اس ہستی کے بارے میں لکھنے جا رہے ہیں جن کے انتظامی معاملات کو یورپ بھی ماننے پر مجبور ہے۔
حضرت عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ
حضرت عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ اسلامی تاریخ کی وہ عظیم شخصیت ہیں جن کا نام سنتے ہی دل میں عظمت اور احترام جاگ اٹھتا ہے۔ لوگ گوگل پر سرچ کرتے ہیں:
- حضرت عمر کی زندگی،
- خلیفہ عمر فاروق
- حضرت عمر کی فتوحات
- حضرت عمر کی شہادت
- حضرت عمر اور حضرت علی کا تعلق
- حضرت عمر کی پیدائش اور بیویاں
ان سب پہلووں پر روشنی ڈالنے کی حقیر کوشش کی ہے۔
- ابتدائی زندگی سے لے کر خلافت
- فتوحات
- ذاتی کردار اور آخری لمحات
پیدائش
مکہ کی گرم ریت اور قریش کے ماحول میں ایک ایسا بچہ پیدا ہوا جس نے آگے چل کر دنیا کی تاریخ بدل دی۔ یہ تھے عمر فاروقؓ۔ ان کے والد کا نام خطاب بن نفیل اور والدہ کا نام حنتمہ بنت ہشام تھا۔ جاہلیت کے زمانے میں وہ اونٹ چراتے تھے۔ قریش کے ایک بااثر خاندان سے تعلق رکھنے کی وجہ سے وہ نڈر اور دبنگ شخصیت کے مالک تھے۔
| چیز | تفصیل |
|---|---|
| نام | حضرت عمر فاروقؓ |
| پیدائش | مکہ مکرمہ |
| خلافت | 634–644 |
| شہادت | مدینہ |
حضرت عمرؓ کے اسلام قبول کرنے کا واقعہ
نبوت کے چھٹے سال حضرت عمر نے اسلام قبول کیا۔ ایک دن وہ غصے سے بھرے ہوئے تلوار لے کر نکلے، ارادہ کچھ اور تھا، مگر راستے میں قرآن کی آواز نے ان کے دل کی دنیا ہی بدل دی اور یہی لمحہ ان کی زندگی کا سب سے بڑا موڑ بن گیا۔ جیسے ہی وہ اسلام لائے، مکہ کی فضا بدل گئی مسلمان جو پہلے چھپ کر عبادت کرتے تھے، اب کھل کر کعبہ میں نماز ادا کرنے لگے۔ نبی ﷺ نے انہیں فاروق کا لقب دیا یعنی حق و باطل میں فرق کرنے والا۔
عبداللہ بن مسعود نے فرمایا:
جب عمر اسلام لائے تو ہمیں عزت اور طاقت کا احساس ہوا، کیونکہ ہم اس سے پہلے مسجدِ حرام میں طواف اور نماز ادا نہیں کر سکتے تھے۔ جب وہ مسلمان ہوئے تو انہوں نے کفار کا مقابلہ کیا، یہاں تک کہ انہوں نے ہمیں آزاد چھوڑ دیا۔ پھر ہم نے کعبہ کا طواف کیا اور نماز ادا کی۔
اسلامی تاریخ کے کئی اہم واقعات اور معرکوں میں انہوں نے حصہ لیا، جہاں انہوں نے دینِ اسلام کے لیے اپنی وفاداری اور لگن کا عملی ثبوت دیا۔
نبی کریم ﷺ کے دور میں جن اہم واقعات میں انہوں نے شرکت کی، وہ یہ ہیں:
غزوۂ بدر
غزوۂ خندق
غزوۂ احد
ہجرتِ مدینہ
فتح مکہ
حجۃ الوداع
نبی کریم ﷺ کی صحبت
انہوں نے نبی ﷺ کی صحبت میں اٹھارہ سال گزارے۔ مدینہ میں نبی ﷺ نے انہیں حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کا بھائی بنایا، جبکہ خود حضرت علی رضی اللہ عنہ کو اپنا بھائی قرار دیا۔
غزوہ حنین اور خیبر میں بھی ان کی شرکت ہوئی ۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ہمارے پیارے نبی ﷺ نے انہیں کبھی کوئی بڑا فوجی یا انتظامی عہدہ نہیں دیا۔ وہ ہمیشہ ایک عام سپاہی کی حیثیت سے کام کرتے رہے۔ حضرت عمر کی بیٹی حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا کا نکاح نبی ﷺ سے ہوا تھا۔
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے تعلق
عمر فاروق اور حضرت علی رضی اللہ عنہ کے درمیان احترام کا گہرا تعلق تھا مگر بعض سیاسی معاملات میں اختلافات بھی رہے۔ دونوں صحابہ کرام تھے اور نبی ﷺ کی زندگی میں ایک دوسرے کے ساتھ برادری کا رشتہ قائم تھا۔ خلافت کے دوران بھی دونوں کے درمیان مشورے ہوتے رہے۔مثال کے طور پر :
عمر فاروق رضی اللہ عنہ جب فارس کی قیادت خود کرنے کا ارادہ کر رہے تھے تو حضرت علی نے انہیں روکا اور کہا آپ مرکز سے دور نہ جائیں۔ اگر آپ کو ایرانی دیکھ لیں گے تو کہیں گے کہ یہی عربوں کی جڑ ہے، اگر اس جڑ کو کاٹ دیا جائے تو ہمیشہ کا آرام ہو جائے گا۔
عمر فاروق نے حضرت علی کی اس رائے کو قبول کر لیا اور خود جنگ میں نہ گئے۔ اس کے بجائے انہوں نے دوسرے جرنیلوں کو بھیجا۔
حضرت علی نے خلیفہ کو کھلے دل سے مشورہ دیا، اور حضرت عمر نے اسے مان بھی لیا حالانکہ وہ خود جنگ کی قیادت کرنا چاہتے تھے۔
وہ اکثر کہا کرتے تھے اگر علی نہ ہوتے تو عمر ہلاک ہو جاتا۔
خلافت اور انتظامی نظام
حضرت ابوبکر صدیق کی وفات کے بعد فاروقِ اعظم خلیفہ بنے۔ ان کی خلافت تقریباً دس سال چھ ماہ رہی۔ انہوں نے خالد بن ولید جیسے بڑے جرنیل کو برطرف کر کے ابو عبیدہ بن جراح کو شام کا کمانڈر بنایا۔
مورخین اس کی چند وجوہات بیان کرتے ہیں کہ:
- لوگوں کا زیادہ بھروسا حضرت خالدؓ پر ہونا
عمرؓ چاہتے تھے کہ لوگ یہ سمجھیں کہ فتح صرف اللہ کی مدد سے ہوتی ہے، نہ کہ کسی ایک جرنیل کی وجہ سے۔ - انتظامی نظم و ضبط
خالد بن ولیدؓ ایک عظیم سپہ سالار تھے، لیکن بعض اوقات مالی یا انتظامی معاملات میں اپنی رائے سے فیصلے کر لیتے تھے۔ - نظام کو مضبوط بنانا
وہ چاہتے تھے کہ فوج ایک مضبوط نظام کے تحت چلے، نہ کہ صرف کسی ایک ہیرو پر انحصار کرے۔
ان کی خلافت کا دور ایسا تھا جہاں ایک عام آدمی بھی خلیفہ کے سامنے کھڑا ہو کر انصاف مانگ سکتا تھا اور انصاف ملتا بھی تھا۔
انہوں نے فوجی چھاؤنیاں قائم کیں، زمین کا جائزہ لیا، ٹیکس کا منظم نظام بنایا اور فارس و روم کے پرانے انتظامی ڈھانچے کو برقرار رکھا۔ عربوں کو صرف لڑاکا اور حکمران طبقہ بنائے رکھا۔ انصار کو اہم عہدوں سے زیادہ تر دور رکھا گیا۔
ان کے دور میں اسلام صرف ایک مذہب نہیں رہا بلکہ ایک عظیم طاقت بن کر دنیا کے نقشے پر پھیل گیا۔
ذاتی زندگی اور خاندان
ان کی 9 بیویاں تھیں
حضرت عمرؓ کی ازواج کے نام
- زینب بنت مظعون
- ام کلثوم بنت علی
- اتیکہ بنت زید
- جمیلہ بنت ثابت
- ام حکیم بنت حارث
- قریبہ بنت ابی امیہ
- فکیہہ (ملک یمین)
- لہیہ (ملک یمین)
- ام کلثوم بنت جرول
اہم بات
- یہ تمام شادیاں ایک وقت میں نہیں تھیں
- کچھ ازواج سے طلاق ہو گئی تھی یا ان کی وفات ہو گئی تھی
اولاد کی تفصیل
بیٹے:
- عبداللہ بن عمر
- عبدالرحمن بن عمر
- زید بن عمر
- عاصم بن عمر
- عبیداللہ بن عمر
- عبدالرحمن الاوسط
- عبدالرحمن الاصغر
بیٹیاں:
- حفصہ بنت عمر (ام المؤمنین)
- فاطمہ بنت عمر
- زینب بنت عمر
- رقیہ بنت عمر
- ام کلثوم بنت عمر
اس دور میں معاشرتی اور قبائلی وجوہات کی بنیاد پر متعدد شادیاں عام تھیں
عظیم فتوحات
حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے دور میں اسلامی سلطنت بے پناہ وسعت اختیار کر گئی۔ ان کے جرنیلوں نے
- عراق،
- ایران،
- شام،
- فلسطین،
- مصر،
- اردن،
- آذربایجان،
- خراسان اور دیگر علاقے فتح کیے۔ یہ فتوحات صرف مذہبی جذبے سے نہیں بلکہ عربوں کی نقل و حرکت، صحرا کی پناہ اور دشمن کی کمزوریوں سے بھی ممکن ہوئیں۔ ان فتوحات نے اسلام کو ایک عظیم سلطنت بنا دیا۔
شہادت
ایک صبح نماز کے دوران، اچانک ایک حملہ ہوا اور وہ عظیم شخصیت جس نے آدھی دنیا پر حکومت کی، سجدے کی حالت میں زخمی ہو گئے۔ زخم ناف میں لگا اور چند دن بعد ان کی شہادت ہو گئی۔ وہ مسجد نبوی میں دفن ہیں۔
موت سے پہلے انہوں نے چھ صحابہ کی کمیٹی بنائی:
- حضرت علی
- عثمان
- طلحہ
- زبیر
- عبد الرحمن بن عوف
- سعد بن ابی وقاص
انہیں تین دن میں خلیفہ منتخب کرنے کا حکم دیا اور اقلیت کو قتل کرنے کی ہدایت بھی کی۔ نتیجہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے انتخاب پر نکلا۔
حضرت عمرؓ کی وفات کے وقت دولت
ان کی زندگی سادگی اور زہد کی بہترین مثال تھی۔ اتنی بڑی اسلامی سلطنت کے حکمران ہونے کے باوجود ان کے پاس ذاتی طور پر بہت زیادہ دولت موجود نہیں تھی۔
روایات کے مطابق:
- ان کے پاس چند معمولی کپڑے تھے
- سوارے کے لیے ایک اونٹ اور گھریلو ضرورت کا محدود سامان تھا
- کوئی بڑی جائیداد یا خزانہ نہیں تھا
یہاں تک کہ انہوں نے اپنی وفات سے پہلے اپنے بیٹے کو وصیت کی کہ اگر بیت المال سے ان پر کوئی رقم واجب ہو تو اسے ادا کر دیا جائے، چاہے اس کے لیے ان کا ذاتی سامان ہی کیوں نہ بیچنا پڑے۔
میراث اور سبق
آج بھی جب انصاف کی بات ہوتی ہے، تو حضرت عمر کا نام سب سے پہلے ذہن میں آتا ہے اور شاید یہی ان کی سب سے بڑی میراث ہے۔
ان کا دور فتوحات، عدل اور انتظامی اصلاحات کا سنہرا دور ہے۔ انہوں نے اموی خاندان کو اہم عہدے دیے اور حدیث کی روایت پر پابندی بھی لگائی تھی۔ ان کے کچھ فیصلے آج بھی بحث کا موضوع ہیں مگر ان کی سادگی، انصاف اور اسلام کی خدمت کو تاریخ ہمیشہ یاد رکھے گی۔
انہوں نے حدیث کی روایت پر پابندی کیوں لگائی تھی؟
ان کی یہ پالیسی چند اہم وجوہات کی بنا پر تھی:
قرآن مجید پر توجہ مرکوز رکھنے کے لیے
ان کا سب سے بڑا خدشہ یہ تھا کہ اگر لوگ حدیث زیادہ بیان کرنے اور لکھنے لگیں گے تو قرآن مجید کو نظر انداز کر دیں گے۔ انہوں نے کہا تھا:
پہلی قومیں نے اپنے انبیاء کی باتوں کو لکھا اور ان میں مشغول ہو گئے، نتیجہ یہ ہوا کہ اللہ کی کتاب یعنی کہ تورات اور انجیل کو چھوڑ دیا۔ میں قرآن کو کسی اور چیز سے نہیں ملانا چاہتا۔
حدیث میں غلطی یا بہتان کا خوف:
اس زمانے میں قرآن کی تعلیم ابھی پوری طرح پھیل نہیں رہی تھی۔ نئے مسلمان اگر حدیث اور قرآن کو ایک ساتھ سنتے تو دونوں کو گڈمڈ کر سکتے تھے۔ حضرت عمر چاہتے تھے کہ پہلے سب لوگ قرآن اچھی طرح سیکھ لیں، پھر حدیث کی طرف آئیں۔
اجتہاد اور حکمرانی کے لیے آزادی
بعض مورخین خاص طور پر شیعہ ذرائع کہتے ہیں کہ اس پابندی سے ان کے بعض فیصلوں پر تنقید کم ہوتی تھی، اور وہ اپنے اجتہاد کو زیادہ آزادانہ استعمال کر سکتے تھے۔
یہ پابندی مطلق نہیں تھی۔ حضرت عمر خود بھی حدیث بیان کرتے تھے اور ضروری معاملات میں حدیث پر عمل بھی کرتے تھے۔ بعد میں حضرت عمر بن عبد العزیز نے اس پابندی کو ختم کر دیا اور حدیث کی تدوین شروع ہوئی۔
ان کے کچھ فیصلے آج بھی بحث کا موضوع ہیں مگر ان کی سادگی، انصاف اور اسلام کی خدمت کو تاریخ ہمیشہ یاد رکھے گی۔
کچھ فیصلے آج بھی سنی, شیعہ بحث کا حصہ ہیں، لیکن ان کی سادگی جیسا کہ بیت المال سے کم لینا، سخت زندگی گزارنا، عدل اور اسلام کی خاطر کی گئی خدمات مثال کے طور پر فتوحات اور سلطنت کی تنظیم کو کوئی نہیں بھلا سکتا۔