بچوں کی اچھی تربیت کے 15 عملی طریقے
بچوں کی اچھی تربیت کیسے کریں؟
آج کل والدین سب سے زیادہ پریشان اس بات پر ہوتے ہیں کہ ہمارے بچے کامیاب ہوں، اچھے اخلاق والے بنیں اور اللہ کے سامنے بھی سرخرو ہوں۔ ایک ماں باپ جو اپنے بچے کے ساتھ بیٹھ کر بات کرتا ہے، اسے وقت دیتا ہے، اس کی غلطی پر غصہ نہیں کرتا بلکہ صبر سے سمجھاتا ہے، وہی بچہ ایک دن پورے خاندان کا سرمایہ بن جاتا ہے۔
کچھ بچے بہت ذہین ہیں مگر اخلاق خراب، کچھ بچے بہت فرمانبردار ہیں مگر پڑھائی میں پیچھے۔ اصل بات یہ ہے کہ تربیت کا توازن ہونا چاہیے۔ آج اس مکمل گائیڈ میں میں آپ کو 15 عملی طریقے بتاؤں گا جو آسانی سے اپنائے جا سکتے ہیں۔
1. بچوں کو بے شرط محبت دو
سب سے پہلی اور سب سے بڑی تربیت محبت ہے۔ بچے کو روزانہ گلے لگائیں، اس کی آنکھوں میں دیکھ کر کہیں کہ تم ہمارے لیے بہت قیمتی ہو۔ محبت کی کمی بچے کو اندر سے کمزور کر دیتی ہے۔ جب بچہ جانتا ہے کہ وہ بے شرط پیارا ہے تو وہ غلط راستے پر نہیں جاتا۔
2. ان کے ساتھ وقت گزارو
موبائل اور کام میں مصروف رہ کر ہم سوچتے ہیں کہ پیسہ دے کر تربیت ہو جائے گی۔ بچے کو روزانہ کم از کم 30 منٹ وقت دو۔ کھیلو، باتیں کرو، کہانی سناؤ۔ یہ وقت ان کی یادداشت میں عمر بھر رہے گا۔
3. اپنے آپ کو بچوں کے سامنے بہترین مثال بناؤ
بچے آپ کی باتیں نہیں، آپ کے کام دیکھتے ہیں۔ اگر آپ جھوٹ بولتے ہیں تو بچہ بھی جھوٹ بولے گا۔ اگر آپ احترام کرتے ہیں تو بچہ بھی احترام کرے گا۔ خود کو تبدیل کریں، بچہ خود بخود ٹھیک ہو جائے گا۔
4. اچھی بات چیت کا اہتمام کرو
بچے پر صرف حکم نہ چلائیں۔ ان سے پوچھیں :
- آج سکول میں کیا ہوا؟
- آپ کو کیا اچھا لگا؟
- آپ کیا سوچتے ہیں؟
جب بچہ کھل کر بات کرے تو اسے روکیں نہیں۔ یہ اعتماد پیدا کرتا ہے۔
5. نظم و ضبط لائیں مگر پیار سے
غلطی پر مار پیٹ یا سخت سزا دینے کی بجائے پرسکون ہو کر سمجھائیں۔ مثال کے طور پر کہیں، بیٹا، یہ کام غلط تھا کیونکہ…۔ بچہ خود سمجھ جائے گا۔ سخت نظم و ضبط بچے کو بغاوت سکھاتا ہے۔
6. تعلیم کو دلچسپ بنائیں
پڑھائی کا ذریعہ صرف کتابیں نہیں ہیں۔آپ اپنے بچوں سے گھر میں تخلیقی کام کروائیں، کہانیوں کے ذریعے سبق دیں، کھیلتے کھیلتے سیکھیں۔ بچہ جب دل سے سیکھے گا تو کبھی بھولے گا نہیں۔
نوٹ:
اگر آپ اپنے بچوں میں ماحولیاتی شعور بھی پیدا کرنا چاہتے ہیں تو پائیدار زندگی کے طریقے پر یہ بلاگ ضرور پڑھیں۔
پائیدار اور اچھی زندگی گزارنے کے 10 طریقے
اس میں بتایا گیا ہے کہ بچوں کو چھوٹی چھوٹی عادتوں سے ہی ماحول دوست بنایا جا سکتا ہے۔
7. اخلاقی اقدار سکھائیں
بچوں کو سچ بولنا سکھائیں۔ ایمانداری کی اہمیت سمجھائیں۔ بڑوں اور دوسروں کا احترام کرنا سکھائیں۔ ہر چیز پر شکرگزاری کی عادت ڈالیں۔ دوسروں کی مدد کرنے کا جذبہ پیدا کریں
صرف باتیں نہ کریں، بلکہ خود بھی مثال بنیں۔ روزانہ چھوٹے چھوٹے مواقع دیں جہاں بچہ یہ عادتیں اپنائے۔ اچھا کام کرنے پر تعریف ضرور کریں
سونے سے پہلے بچوں سے بات کریں
آج تم نے کس کی مدد کی؟۔ اگر انہوں نے کچھ اچھا کیا ہو تو اسے ہائی لائٹ کریں۔ اگر نہ کیا ہو تو اگلے دن کے لیے موٹیویٹ کریں۔ بچے میں مثبت سوچ پیدا ہوگی۔ وہ دوسروں کے لیے فائدہ مند انسان بنے گا
8. صحت اور جسمانی سرگرمی پر توجہ دو
بچوں کو باہر کھیلنے کا موقع دیں۔ موبائل اور ٹی وی کی حد مقرر کریں۔ صحت مند جسم ہی صحت مند دماغ پیدا کرتا ہے۔
9. ذمہ داری سکھائیں
بچوں کو چھوٹی چھوٹی ذمہ داریاں دیں۔ اس سے ان میں خود کام کرنے کی اہمیت پیدا ہوگی۔
- جیسے اپنا بستر درست کرنا
- پانی کا گلاس لانا
- جوتے صاف کرنا
جب بچہ ذمہ دار بنے گا تو زندگی میں کامیاب ہو گا۔
10. غلطیوں سے سیکھنے کا موقع دو
بچے سے غلطی پر غصہ نہ کریں۔ کہیں، کوئی بات نہیں، اب اگلی بار ہم اسے بہتر کریں گے۔ یہ بچے میں حوصلہ پیدا کرتا ہے۔
11. اللہ کی یاد اور دعا سکھائیں
عبادات کی عادت ڈالیں
بچوں کو نماز کی پابندی سکھائیں۔ روزانہ تھوڑا سا قرآن پڑھنے کی عادت بنائیں۔ ہر کام سے پہلے اور بعد میں دعا کرنا سکھائیں۔ ہر نعمت پر اللہ کا شکر ادا کرنا سکھائیں
اللہ سے تعلق مضبوط کریں
بچے کو آسان الفاظ میں بتائیں کہ اللہ ہر وقت ہمارے ساتھ ہے۔ اسے یہ احساس دلائیں کہ وہ کبھی اکیلا نہیں ہے۔ مشکل وقت میں اللہ سے بات کرنے کی ترغیب دیں
اندرونی طاقت پیدا کریں
اللہ پر یقین بچے کو ہمت اور سکون دیتا ہے۔ وہ ڈر اور پریشانی میں بھی مضبوط رہتا ہے۔ اس کے اندر اعتماد اور مثبت سوچ پیدا ہوتی ہے
روزمرہ زندگی میں شامل کریں
خود بھی عبادات کریں تاکہ بچہ سیکھے۔ گھر میں ایسا ماحول بنائیں جہاں دین آسان اور خوشگوار لگے
12. مثبت سوچ سکھائیں
ناکامی کو صحیح طریقے سے سمجھائیں
بچے کو بتائیں کہ ناکامی زندگی کا حصہ ہے۔ یہ سیکھنے کا موقع ہوتی ہے، نہ کہ ہار
مثبت سوچ پیدا کریں
بچے کو سکھائیں کہ:
ناکامی کامیابی کی پہلی سیڑھی ہے۔ ہر غلطی سے سبق لینے کی عادت ڈالیں
مثبت الفاظ استعمال کریں
منفی جملوں سے پرہیز کریں بچوں کو کہیں کہ آپ بہتر کر سکتے ہو دوبارہ کوشش کرو، تم کامیاب ہو جاؤ گے
دوبارہ کوشش کی حوصلہ افزائی
بچے کو ہار ماننے نہ دیں۔ اسے بار بار کوشش کرنے کا حوصلہ دیں۔ چھوٹی کامیابیوں پر بھی تعریف کریں۔
13. خاندانی وقت کو اہمیت دو
ہفتے میں ایک دن پورا خاندان بیٹھے، کھانا کھائے، باتیں کرے۔ یہ بچے کو سیکورٹی کا احساس دیتا ہے۔
14. تنقید کی بجائے حوصلہ افزائی کرو
بچے سے کبھی بھی یہ نہ کہیں کہ تم بیکار ہو، کیونکہ ایسے الفاظ اس کے دل کو توڑ دیتے ہیں اور اس کا اعتماد ختم کر دیتے ہیں۔ اس کے بجائے اسے پیار سے سمجھائیں کہ تم میں بہت صلاحیت ہے، بس تھوڑی محنت کرو۔ مثبت الفاظ بچے کے اندر ہمت اور یقین پیدا کرتے ہیں، وہ خود کو قابل سمجھنے لگتا ہے اور آگے بڑھنے کی کوشش کرتا ہے۔ اگر ہم بار بار منفی باتیں کریں تو بچہ خود کو کمزور اور ناکام سمجھنے لگتا ہے، جبکہ حوصلہ افزائی اسے مضبوط بناتی ہے۔ اس لیے گھر میں ایسا ماحول ہونا چاہیے جہاں محبت، سپورٹ اور تعریف ہو، تاکہ بچہ اپنی چھوٹی چھوٹی کامیابیوں سے سیکھے اور آگے بڑھے۔ یاد رکھیں، الفاظ میں بہت طاقت ہوتی ہے، یہ یا تو بچے کو گرا سکتے ہیں یا اسے آسمان کی بلندیوں تک پہنچا سکتے ہیں۔
15. ہر بچے کو الگ الگ سمجھیں
ہر بچہ مختلف ہوتا ہے۔ ایک بچہ پڑھائی میں اچھا، دوسرا آرٹ میں۔ اس کی صلاحیت کے مطابق رہنمائی کریں۔ اسے دوسروں سے موازنہ نہ کریں۔
آخری بات
تربیت کوئی ایک دن کا کام نہیں، یہ روزانہ کی چھوٹی چھوٹی عادتوں کا نتیجہ ہے۔آج ہی سے شروع کریں۔
ایک بات یاد رکھیں:
بچے آپ کے آئینے ہوتے ہیں۔ آپ جیسے بنیں گے، وہ ویسے ہی بنیں گے۔